اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ معجزہ ظاہر ہوا کہ پورب کی طرف سے ایک ایسی زور دار آندھی آئی جس میں کڑاکے کا جاڑا بھی تھا اوراس میں اس شدت کے جھونکے اور جھٹکے تھے کہ گردوغبار کا بادل چھا گیا۔ کفار کی آنکھیں دھول اور کنکریوں سے بھر گئیں ان کے چولہوں کی آگ بجھ گئی اور بڑی بڑ ی دیگیں چولہوں سے الٹ پلٹ کر دور تک لڑھکتی ہوئی چلی گئیں، خیموں کی میخیں اکھڑ گئیں اور خیمے اڑ اڑ کر پھٹ گئے، گھوڑے ایک دوسرے سے ٹکرا کر لڑنے لگے، غرض یہ آندھی کفار کے لئے ایک ایسا عذاب شدید بن کر ان پر مسلط ہو گئی کہ کفار کے قدم اکھڑ گئے ان کی کمر ہمت ٹوٹ گئی اور وہ فرارپر مجبور ہو گئے اور بدحواسی کے عالم میں سر پر پیر رکھ کر بھاگ نکلے۔ یہی وہ آندھی ہے جس کا ذکر خداوند قدوس نے اپنی کتاب مقدس قرآن مجید میں ان لفظوں کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ