| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
مگر یہ بدنصیب پھر کافر و مرتد ہو کر کفار سے جا ملا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا میں ان کو لکھ کر دے دیا کرتا تھا۔ قہر الٰہی نے اس گستاخ کو اپنی گرفت میں پکڑ لیا اور یہ مر گیا۔ نصرانیوں نے اس کو دفن کیا مگر زمین نے اس کی لاش کو باہر پھینک دیا، نصرانیوں نے گہری قبر کھود کر تین مرتبہ اس کو دفن کیا مگر ہر مرتبہ زمین نے اس کی لاش کو باہر پھینک دیا۔ چنانچہ نصرانیوں نے بھی اس بات کا یقین کر لیا کہ اسکی لاش کو زمین کے باہر نکال پھینکنا یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے اس لئے ان لوگوں نے اس کی لاش کو زمین پر ڈال دیا۔(1)(بخاری جلد۱ ص۵۱۱ علامات النبوۃ)
جنگِ خندق کی آندھی
حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَاُھْلِکَتْ عَادُ بِالدَّبُوْرِ
(بخاری جلد۲ ص۵۸۹ غزوۂ خندق) یعنی پُروا ہوا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد پچھوا ہو اسے ہلاک کی گئی۔(2)
اس کا واقعہ یہ ہے کہ غزوۂ خندق میں قبائل قریش و غطفان اور قریظہ و بنی النضیر کے یہود اور دوسرے مشرکین نے متحدہ افواج کے دل بادل لشکروں کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کر دی اور مسلمانوں نے مدینہ کے گرد خندق کھود کر ان افواج کے حملوں سے پناہ لی تو ان شیطانی لشکروں نے مدینہ کا ایسا سخت محاصرہ کر لیا کہ مدینہ کے اندر مدینہ کے باہر سے ایک گیہوں کا دانہ اور ایک قطرہ پانی کا جانا محال ہو گیا تھا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان مصائب و شدائد سے گو پریشان حال تھے مگر ان کے جوش ایمانی کے استقلال میں بال برابر فرق نہیں آیا تھا۔ ٹھیک اسی حالت میں نبی اکرم صلی
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب علامات النبوۃ...الخ، ا لحدیث :۳۶۱۷،ج۲، ص۵۰۶ 2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الخندق...الخ،الحدیث:۴۱۰۵،ج۳،ص۵۳