Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
808 - 872
نے یہ سمجھا کہ وہ اچھا ہے۔ چنانچہ دونوں میاں بیوی ایک ہی بستر پر سوئے لیکن صبح کو جب ابو طلحہ غسل کرکے مسجد نبوی میں نمازِ فجر کے لئے جانے لگے تو بیوی نے بچے کی موت کا حال سنا دیا۔ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے رات کا سارا ماجرا بارگاہِ نبوت میں عرض کیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ خداوند تعالیٰ تمہاری آج کی رات میں برکت عطا فرمائے گا۔ چنانچہ اس رات کی برکت مقررہ مہینوں کے بعد ظاہر ہوئی کہ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے فرزند حضرت عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے اور حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو اپنی گود میں بٹھا کر اور عجوہ کھجور کو چباکر ان کے منہ میں ڈالا اور ان کے چہرے پر اپنا دست رحمت پھرا دیا اور عبداﷲ نام رکھا۔

    ایک انصاری حضرت عبایہ بن رفاعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ دعاءِ نبوی کی برکت کا یہ اثر ہوا کہ میں نے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نو اولادوں کو دیکھا جو سب کے سب قرآن مجید کے قاری تھے۔(1)

(مسلم جلد۲ ص۲۹۲ باب فضائل اُمِ سلیم و بخاری جلد۱ ص۱۷۴ باب من لم یظہر حزنہ عند المصیبۃ)
حضرت جریر کے حق میں دعا
    حضرت جریر بن عبداﷲ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑے کی پیٹھ پر جم کر بیٹھ نہیں سکتے تھے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو ''ذوالخلصہ'' کے بت خانہ کو توڑنے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب من لم یظہرحزنہ عندالمصیبۃ،الحدیث:۱۳۰۱، ج۱،ص۴۴۰

وصحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل ابی طلحۃالانصاری،الحدیث: ۲۱۴۴،ص۱۳۳۳
Flag Counter