یعنی فلاح والا ہوجائے تیرا چہرہ ،یااﷲ! اس کے بال اور اس کی کھال میں برکت دے۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ستر برس کی عمر پا کر وفات پائی مگر ان کا ایک بال بھی سفید نہیں ہوا تھا نہ بدن میں جھریاں پڑی تھیں، چہرے پر جوانی کی ایسی رونق تھی کہ گویا ابھی پندرہ برس کے جوان ہیں۔(2) (الکلام المبین ص۶۸ بحوالہ دلائل النبوۃ بیہقی)
حضرت ابوطلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بڑی ہوشمند اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نہایت ہی جاں نثار تھیں ان کا بچہ بیمار ہو گیا اور حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ گھر سے باہر ہی تھے کہ بچے کا انتقال ہو گیا۔ حضرت اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بچے کو الگ مکان میں لٹا دیا اور جب حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مکان میں داخل ہوئے اور بیوی سے پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ بیوی نے جواب دیا کہ اس کا سانس ٹھہر گیا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ وہ آرام پا گیا ہے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجھادوالسیر،باب الدعاء بالجھادوالشھادۃ...الخ،الحدیث: ۲۷۸۸،۲۷۸۹،ج۲،ص۲۵۰
2۔۔۔۔۔۔الشفا بتعریف حقوق المصطفی،الجزء الاول،ص۳۲۷