Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
806 - 872
''مد'' میں برکت دے اور مدینہ کو ہمارے لئے صحت بخش بنا دے اور یہاں کے بخار کو ''جحفہ'' میں منتقل کردے۔''آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا حرف بحرف مقبول ہوئی اور مہاجرین کو شہر مدینہ سے ایسی الفت اور والہانہ محبت ہو گئی کہ وہی حضرت ابوبکر و حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہما جو چند روز پہلے مدینہ کی بیماریوں سے گھبرا اٹھے تھے اور اپنے وطن مکہ کی یاد میں خون رلانے والے اشعار گایا کرتے تھے، اب مدینہ کے ایسے عاشق بن گئے کہ پھر کبھی بھول کر بھی مکہ کی سکونت کا نام نہیں لیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے خواب میں یہ دکھلا دیا کہ مدینہ کی وبائیں مدینہ سے دفع ہو گئیں اور مدینہ کی آب و ہوا صحت بخش ہو گئی۔(1)

(بخاری جلد۱ ص۵۵۸ باب مقدم النبی و بخاری جلد۲ ص۱۰۴۲ باب المرأۃ السوداء)
اُمِ حرام کے لئے دعاء شہادت
    ایک روز حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت بی بی اُمِ حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے مکان میں کھانے کے بعد قیلولہ فرما رہے تھے کہ ناگہاں ہنستے ہوئے نیند سے بیدار ہوئے، حضرت بی بی اُمِ حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ہنسی کی وجہ دریافت کی تو ارشاد فرمایا کہ میری امت میں مجاہدین کا ایک گروہ میرے سامنے پیش کیا گیا جو جہاد کی غرض سے دریا میں کشتیوں پر اس طرح بیٹھا ہوا سفر کریگا جس طرح تخت پر بادشاہ بیٹھے رہا کرتے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے درخواست کی کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) دعا فرما دیجئے کہ میں بھی ان مجاہدین کے گروہ میں شامل رہوں۔ آپ نے دعا فرما دی۔ چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جب بحری جنگ کا سلسلہ شروع
1۔۔۔۔۔۔صحیح ا لبخاری،کتاب مناقب الانصا ر،باب مقدم النبی...الخ،الحدیث:۳۹۲۶،ج۲،ص۶۰۱
Flag Counter