Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
805 - 872
بارش ہوئی کہ سارا عرب سیراب ہو گیا اور اہل مکہ کو قحط کے عذاب سے نجات ملی۔(1)

     (بخاری جلد ۱ص ۱۳۷ابو اب الا ستسقاء وبخاری جلد۲ ص ۷۱۴تفسیر سورۂ دخان)
سردارانِ قریش کی ہلاکت
    ایک مرتبہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم صحن حرم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ کفار قریش کے چند سر کش شریروں نے بحالت نماز آپ کی مقدس گردن پر ایک اونٹ کی اوجھڑی لا کر ڈال دی اور خوب زور زور سے ہنسنے لگے اور مارے ہنسی کے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے آکر اس اوجھڑی کو آپ کی پشت اطہر سے اٹھایا ۔ جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر اٹھایا تو ان شریروں کا نام لے لے کر نام بنام یہ دعا مانگی کہ یا اﷲ ! تو ان سبھوں کو اپنی گرفت میں پکڑ لے ۔ چنانچہ یہ سب کے سب جنگِ بدر میں انتہائی ذلت کے ساتھ قتل ہوکر ہلاک ہو گئے۔(2)(بخاری جلد ۲ص۵۶۵غزوہ بدر)
مدینہ کی آب و ہوا اچھی ہو گئی
    پہلے مدینہ کی آب و ہوا اچھی نہ تھی، وہاں قسم قسم کی وباؤں کا اثر تھا۔ چنانچہ ہجرت کے بعد اکثر مہاجرین بیمار پڑ گئے اور بیماری کی حالت میں اپنے وطن مکہ کو یاد کرکے پر درد لہجے میں اشعار پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر یہ دعا فرمائی کہ ''الٰہی ! مدینہ کو بھی ہمارے لئے ویسا ہی محبوب کر دے جیسا کہ مکہ محبوب ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ الٰہی! ہمارے ''صاع'' اور
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الاستسقائ،باب دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ الحدیث: ۱۰۰۷،ج۱،ص۳۴۵وکتاب التفسیر،باب ثم تولواعنہ...الخ،الحدیث:۴۸۲۴،ج۳،ص۳۲۳

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الوضوئ،باب اذا القی علی ظہرالمصلی...الخ،الحدیث: ۲۴۰، ج۱،ص۱۰۲
Flag Counter