Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
798 - 872
ٹوٹی ہوئی ٹانگ درست ہو گئی
    بخاری شریف کی ایک طویل حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عتیک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب ابو رافع یہودی کو قتل کرکے واپس آنے لگے تو اس کے کوٹھے کے زینے سے گر پڑے جس سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور ان کے ساتھی ان کو اٹھا کر بارگاہ نبوت میں لائے، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی زبان سے ابو رافع کے قتل کا سارا واقعہ سنا پھر ان کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر اپنا دستِ مبارک پھیر دیا تو وہ فوراً ہی اچھی ہو گئی اور یہ معلوم ہونے لگا کہ ان کی ٹانگ میں کبھی کوئی چوٹ لگی ہی نہ تھی۔(1)(بخاری جلد۲ ص۵۷۷ باب قتل ابی رافع)
تلوار کا زخم اچھا ہو گیا
    غزوۂ خیبر میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ٹانگ میں تلوار کا زخم لگ گیا، وہ فوراً ہی بارگاہ نبوت میں حاضر ہو گئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے زخم پر تین مرتبہ دم کر دیا پھر انہیں درد کی کوئی شکایت محسوس نہیں ہوئی صرف زخم کا نشان رہ گیا تھا۔(2)(بخاری جلد۲ ص۶۰۵ غزوۂ خیبر)
اندھا بینا ہو گیا
    حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک اندھا حاضر ہوا اور اپنی تکالیف بیان کرنے لگا،آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری خواہش ہو تو
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب قتل ابی رافع عبداللہ بن ابی الحقیق،الحدیث: ۴۰۳۹، ج۳،ص ۳۱

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب المغازی ،باب غزوۃ خیبر ، الحدیث: ۴۲۰۶، ج۳، ص ۸۳
Flag Counter