| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
میں دعا کر دوں اور اگر چاہو تو صبر کرو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس نے درخواست کی کہ یارسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میری بینائی کے لئے دعا فرما دیجئے۔آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اچھی طرح وضو کرکے یہ دعا مانگو کہ ''خداوندا!اپنے رحمت والے پیغمبر کے وسیلہ سے میری حاجت پوری کر دے'' ترمذی اور حاکم کی روایت میں اتنا ہی مضمون ہے مگر ابن حنبل اور حاکم کی دوسری روایت میں اس کے بعدیہ بھی ہے کہ اس نابینا نے ایسا کیا تو فوراً ہی اچھا ہو گیا اور اس کی آنکھوں پر بھر پور روشنی آ گئی۔(1) (مسند ابن حنبل جلد۴ ص۱۳۸ و مستدرک جلد۱ ص۵۲۶)
گونگا بولنے لگا
حجۃ الوداع کے موقع پر حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ ''خثعم'' کی ایک عورت اپنے بچے کو لے کر آئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ میرا اکلوتا بیٹا بولتا نہیں ہے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا ا ور اس میں ہاتھ دھو کر کلی فرما دی اورارشاد فرمایا کہ یہ پانی اس بچے کو پلا دو اور کچھ اس کے اوپر چھڑک دو۔ دوسرے سال وہ عورت آئی تو اس نے لوگوں سے بیان کیا کہ اس کا لڑکا اچھا ہو گیا اور بولنے لگا۔(2) (ابن ما جہ ص۲۶ باب النشرہ)
حضرت قتادہ کی آنکھ
جنگ ِ اُحد میں حضرت قتادہ بن نعمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی آنکھ میں ایک تیر لگا جس سے ان کی آنکھ ان کے رخسار پر بہ کر آ گئی، یہ دوڑ کر حضور رسولِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ
1۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عثمان بن حنیف ،الحدیث: ۱۷۲۴۰،۱۷۲۴۱، ج۶، ص ۱۰۶،۱۰۷ 2۔۔۔۔۔۔سنن ابن ماجہ ، کتاب الطب ، باب النشرۃ ،الحدیث: ۳۵۳۲، ج۴، ص ۱۲۹