Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
794 - 872
ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرما دیااور حکم دیا کہ تمام لشکر والے اپنا اپنا توشہ ایک دستر خوان پر جمع کریں ۔چنانچہ جس کے پاس جو کچھ تھا لا کر رکھ دیا تو تمام سامان اتنی جگہ میں آ گیا جس پر ایک بکری بیٹھ سکتی تھی لیکن چودہ سو آدمیوں نے اس میں سے شکم سیر ہو کر کھا بھی لیا ا ور اپنے اپنے توشہ دانوں کو بھی بھر لیا کھانے کے بعد آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پانی مانگا،ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک برتن میں تھوڑاسا پانی لائے ،آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو پیالہ میں انڈیل دیا اور اپنا دستِ مبارک اس میں ڈال دیا تو چودہ سو آدمیوں نے اس سے وضو کیا۔(1)(مسلم جلد۲ ص۸۱ باب استحباب خلط الازواد)
برکت والی کلیجی
    ایک سفر میں حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سو تیس صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہمراہ تھے، آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کا سامان ہے؟ یہ سن کر ایک شخص ایک صاع آٹا لایا اور وہ گوندھا گیا پھر ایک بہت تندرست لمبا چوڑا کافر بکریاں ہانکتا ہوا آپ کے پاس آیا۔ آپ نے اس سے ایک بکری خریدی اور ذبح کرنے کے بعد اس کی کلیجی کو بھوننے کا حکم دیا پھر ایک سو تیس آدمیوں میں سے ہر ایک کا اس کلیجی میں سے ایک ایک بوٹی کاٹ کر حصہ لگایا، اگر وہ حاضر تھا تو اس کو عطا فرما دیا اوراگر وہ غائب تھا تو اس کا حصہ چھپا کر رکھ دیا، جب گوشت تیار ہوا تو اس میں سے دو پیالہ بھر کر الگ رکھ دیا پھر باقی گوشت اور ایک صاع آٹے کی روٹی سے ایک سوتیس آدمیوں کی جماعت شکم سیر کھا کر آسودہ
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب اللقطۃ،باب استحباب خلط الازواد...الخ،الحدیث:۱۷۲۹،ص۹۵۲
Flag Counter