Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
795 - 872
ہو گئی اور دو پیالہ بھر کر گوشت فاضل بچ گیا جس کو اونٹ پر لاد لیا گیا۔(1) 

                (بخاری جلد۲ ص۸۱۱ باب من اکل حتی شبع)
حضرت ابوہریرہ اور ایک پیالہ دودھ
    ایک دن حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھوک سے نڈھال ہو کر راستے میں بیٹھ گئے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سامنے سے گزرے تو ان سے انہوں نے قرآن کی ایک آیت کو دریافت کیا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ مجھے اپنے گھر لے جا کر کچھ کھلائیں گے مگر انہوں نے راستہ چلتے ہوئے آیت بتا دی اور چلے گئے۔ پھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس راستہ سے نکلے ان سے بھی انہوں نے ایک آیت کا مطلب پوچھا غرض وہی تھی کہ وہ کچھ کھلا دیں گے مگر وہ بھی آیت کا مطلب بتا کر چل دئیے۔ اس کے بعد حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرہ کو دیکھ کر اپنی خداداد بصیرت سے جان لیا کہ ''یہ بھوکے ہیں'' آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں پکارا ،انہوں نے جواب دیا اور ساتھ ہو لئے جب آپ کا شانۂ نبوت میں پہنچے تو گھر میں دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ دیکھا گھر والوں نے آپ کو اس شخص کا نام بتلایا جس نے دودھ کا یہ ہدیہ بھیجا تھا۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ جاؤ اور تمام اصحابِ صفہ کو بلا لاؤ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دل میں سوچنے لگے کہ ایک ہی پیالہ تو دودھ ہے اس دودھ کا سب سے زیادہ حق دار تو میں تھا اگر مجھے مل جاتا تو مجھ کو بھوک کی تکلیف سے کچھ راحت مل جاتی اب دیکھئے اصحاب صفہ کے آ جانے کے بعد بھلا اس میں سے کچھ مجھے ملتا ہے یا نہیں؟ ان
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الاطعمۃ،باب من اکل حتی شبع،الحدیث:۵۳۸۲،ج۳،ص ۵۲۳
Flag Counter