| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ایک مدت دراز تک وہ ہمیشہ اس کپے میں سے گھی نکال نکال کر اپنے گھر کا سالن بنایا کرتی تھیں۔ ایک دن انہوں نے اس کپے کو نچوڑ کر بالکل ہی خالی کر دیا جب بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے اس کپے کو نچوڑ ڈالا؟ انہوں نے کہا کہ ''جی ہاں'' آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اس کپے کو نہ نچوڑتیں اور یوں ہی چھوڑ دیتیں تو ہمیشہ اس میں سے گھی نکلتا ہی رہتا۔ (1)اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ (مشکوٰۃ جلد۲ ص۵۳۷ باب المعجزات)
بابرکت پیالہ
حضرت سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ بھر کر کھانا تھا، ہم لوگ دس دس آدمی باری باری صبح سے شام تک اس پیالہ میں سے لگاتار کھاتے رہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایک ہی پیالہ تو کھانا تھا تو وہ کہاں سے بڑھتا رہتا تھا؟ (کہ لوگ اس قدر زیادہ تعداد میں دن بھر اس کو کھاتے رہے) تو انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ '' وہاں سے''(2)
(ترمذی جلد۲ ص۲۰۳ باب ماجاء فی آیات نبوۃ النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)تھوڑا توشہ عظیم برکت
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم چودہ سو اشخاص کی جماعت کے ساتھ ایک سفر میں تھے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھوک سے بے تاب ہو کر سواری کی اونٹنیوں کو
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃوبدء الخلق،باب فی المعجزات،الحدیث:۵۹۰۷، ج۲، ص۳۸۹ 2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب ماجاء فی آیات اثبات نبوۃ...الخ،الحدیث:۳۶۴۵، ج۵،ص۳۵۸