Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
792 - 872
کھاتے اور کھلاتے رہے بلکہ کئی من اس میں سے خیرات بھی کر چکے مگر وہ ختم نہ ہوئیں۔

    حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہمیشہ اس تھیلی کو اپنی کمر سے باندھے رہتے تھے یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن وہ تھیلی ان کی کمر سے کٹ کر کہیں گر گئی۔(1)(مشکوٰۃ جلد۲ ص۵۴۲ معجزات و ترمذی جلد۲ ص۲۲۴مناقب ابوہریرہ)

    اس تھیلی کے ضائع ہونے کا حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو عمر بھر صدمہ اور افسوس رہا۔ چنانچہ وہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن نہایت رقت انگیز اور درد بھرے لہجہ میں یہ شعر پڑھتے ہوئے چلتے پھرتے تھے کہ    ؎
لِلنَّاسِ ھَمٌّ وَ لِیْ ھَمَّانِ بَیْنَھُمْ

ھَمُّ الْجِرَابِ وَھَمُّ الشَّیْخِ عُثْمَانَا(2)

                                           (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ)
لوگوں کے لئے ایک غم ہے اور میرے لئے دو غم ہیں ایک تھیلی کا غم دوسرے شیخ عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا غم۔
اُمِ مالک کا کُپّہ
    حضرت اُمِ مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک کپہ تھا جس میں وہ حضور نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں گھی بھیجا کرتی تھیں اس کپے میں اتنی عظیم برکتوں کا ظہور ہوا کہ جب بھی اُمِ مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے بیٹے سالن مانگتے تھے اور گھر میں کوئی سالن نہیں ہوتا تھا تو وہ اس کپے میں سے گھی نکال کر اپنے بیٹوں کو دے دیا کرتی تھیں۔
1۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی ھریرۃرضی اللہ عنہ،الحدیث:۳۸۶۵، ج۵،ص۴۵۴

2۔۔۔۔۔۔مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الفضائل،تحت الحدیث:۵۹۳۳،ج۱۰،ص۲۷۰
Flag Counter