Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
791 - 872
حضرت جابر کی کھجوریں
    حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے والد یہودیوں کے قرضدار تھے اور جنگِ اُحد میں شہید ہو گئے، حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )میرے والد نے اپنے اوپر قرض چھوڑ کر وفات پائی ہے اور کھجوروں کے سوا میرے پاس قرض ادا کرنے کا کوئی سامان نہیں ہے، صرف کھجوروں کی پیداوار سے کئی برس تک یہ قرض ادا نہیں ہو سکتا آپ میرے باغ میں تشریف لے چلیں تا کہ آپ کے ادب سے یہودی اپنا قرض وصول کرنے میں مجھ پر سختی نہ کریں۔ چنانچہ آپ باغ میں تشریف لائے اور کھجوروں کا جو ڈھیر لگا ہوا تھا اس کے گرد چکر لگا کر دعا فرمائی اور خود کھجوروں کے ڈھیر پر بیٹھ گئے۔آپ کے معجزانہ تصرف اور دعا کی تاثیر سے ان کھجوروں میں اس قدر برکت ہوئی کہ تمام قرض ادا ہو گیا اور جس قدر کھجوریں قرضداروں کو دی گئیں اتنی ہی بچ رہیں۔(1)(بخاری ج۲ ص۵۰۵ علامات النبوۃ)
حضرت ابوہریرہ کی تھیلی
    حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ان کھجوروں میں برکت کی دعا فرما دیجئے۔ آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو اکٹھا کرکے دعاءِ برکت فرما دی اور ارشاد فرمایا کہ تم ان کو اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور تم جب چاہو ہاتھ ڈال کر اس میں سے نکالتے رہو لیکن کبھی توشہ دان جھاڑ کر بالکل خالی نہ کر دینا ۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تیس برس تک ان کھجوروں کو
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب المناقب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام ، الحدیث: ۳۵۸۰، ج۲، ص ۴۹۵
Flag Counter