Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
782 - 872
خود اس اونٹ کے پاس جانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے آپ کو روکا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ اونٹ لوگوں کو دوڑ کر کتے کی طرح کاٹ کھاتا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا'' مجھے اس کا کوئی خوف نہیں ہے'' یہ کہہ کر آپ آگے بڑھے تو اونٹ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آکر اپنی گردن ڈال دی اور آپ کو سجدہ کیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کے سر اور گردن پر اپنا دست شفقت پھیر دیا تو وہ بالکل ہی نرم پڑ گیا اور فرمانبردار ہو گیا اور آپ نے اس کو پکڑ کر اس کے مالک کے حوالہ کر دیا۔ پھریہ ارشاد فرمایا کہ خدا کی ہر مخلوق جانتی اور مانتی ہے کہ میں اﷲ کا رسول ہوں لیکن جنوں اور انسانوں میں سے جو کفار ہیں وہ میری نبوت کا اقرار نہیں کرتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اونٹ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھ کر عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)جب جانور آپ کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم انسانوں کو تو سب سے پہلے آپ کو سجدہ کرنا چاہیے یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی انسان کا دوسرے انسان کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں۔ (1)(زرقانی جلد۵ ص۱۴۰ تا ص۱۴۱ و مشکوٰۃ جلد۲ ص۵۴۰ باب المعجزات)
بارگاہ رسالت میں اونٹ کی فریاد
    ایک بار حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے وہاں ایک اونٹ کھڑا ہوا زور زور سے چلا رہا تھا۔ جب اس نے آپ کو دیکھا تو ایک دم بلبلانے لگا اور اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قریب جا کر اس کے سر اور کنپٹی پر اپنا دست شفقت پھیرا تو وہ تسلی پا کر بالکل
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب سجودالجمل وشکواہ الیہ،ج۶،ص۵۳۸۔۵۴۴ملخصاً
Flag Counter