Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
783 - 872
خاموش ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ لوگوں نے ایک انصاری کا نام بتایا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فوراً ان کو بلوایا اور فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضہ میں دے کر ان کو تمہارا محکوم بنا دیا ہے لہٰذا تم لوگوں پر لازم ہے کہ تم ان جانوروں پر رحم کیا کرو تمہارے اس اونٹ نے مجھ سے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام لے کر اس کو تکلیف دیتے ہو۔(1)(ابو داود جلد۱ ص۳۵۲ مجتبائی)
بے دودھ کی بکری نے دودھ دیا
    حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک نو عمر لڑکا تھا اور مکہ میں کافروں کے سردار عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا اتفاق سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا میرے پاس سے گزر ہوا، آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے لڑکے! اگر تمہاری بکریوں کے تھنوں میں دودھ ہو تو ہمیں بھی دودھ پلاؤ، میں نے عرض کیا کہ میں ان بکریوں کا مالک نہیں ہوں بلکہ ان کا چرواہا ہونے کی حیثیت سے امین ہوں، میں بھلا بغیر مالک کی اجازت کے کس طرح ان بکریوں کا دودھ کسی کو پلا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہاری بکریوں میں کوئی بچہ بھی ہے میں نے کہا کہ ''جی ہاں'' آپ نے فرمایا اس بچے کو میرے پاس لاؤ۔ میں لے آیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس بچے کی ٹانگوں کو پکڑ لیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کے تھن کو اپنا مقدس ہاتھ لگا دیا تو اس کا تھن دودھ سے بھر گیا پھر ایک گہرے پتھر میں آپ نے اس کا دودھ دوہا، پہلے خود پیا
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، باب سجود الجمل وشکواہ الیہ ،ج۶،ص۵۴۳
Flag Counter