تطبیق دی ہے کہ پہلے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو دفن فرما دیا پھر اس خیال سے کہ یہ لوگوں کے قدموں سے پامال ہو گا اس کو زمین سے نکال کر چھت میں لگا دیا اس طرح زمین میں دفن کرنے اور چھت میں لگانے کی دونوں روایتیں دو وقتوں میں ہونے کے لحاظ سے درست ہیں۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔
پھر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد جب تعمیر جدید کے لئے مسجد نبوی منہدم کی گئی اور یہ ستون چھت سے نکالا گیا تو اس کو مشہور صحابی حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک مقدس تبرک سمجھ کر اٹھا لیا اور اس کو اپنے پاس رکھ لیا یہاں تک کہ یہ بالکل ہی کہنہ اور پرانا ہو کر چور چور ہو گیا۔
اس ستون کو دفن کرنے کے بارے میں علامہ زرقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ نکتہ تحریر فرمایا ہے کہ اگرچہ یہ خشک لکڑی کا ایک ستون تھا مگر یہ درجات و مراتب میں ایک مردمومن کے مثل قرار دیا گیا کیونکہ یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عشق و محبت میں رویا تھا اور رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ عشق و محبت کا برتاؤ یہ ایمان والوں ہی کا خاصہ ہے۔(1) (واﷲ تعالیٰ اعلم) (شفاء شریف جلد۱ ص۲۰۰ وزرقانی جلد۵ ص۱۳۸)