Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
780 - 872
اے ستون! میں نے تیری اس آرزو کو منظور کر لیا۔ پھر آپ نے سامعین کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اے لوگو! دیکھو اس ستون نے دارالفناء کی زندگی کو ٹھکرا کر دارالبقاء کی حیات کو اختیار کر لیا۔(1) (شفاء شریف جلد۱ص ۲۰۰)

    ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ستون کو اپنے سینہ سے لگا کر ارشاد فرمایا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر میں اس ستون کو اپنے سینہ سے نہ چمٹاتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔

    واضح رہے کہ گریۂ ستون کا یہ معجزہ احادیث اور سیرت کی کتابوں میں گیارہ صحابیوں سے منقول ہے جن کے نام یہ ہیں:(۱)جابر بن عبد اﷲ(۲)اُبی بن کعب(۳)انس بن مالک(۴)عبد اﷲ بن عمر(۵) عبد اﷲ بن عباس(۶) سہل بن سعد(۷) ابو سعید خدری(۸) بریدہ (۹) ام سلمہ (۱۰) مطلب بن ابی وداعہ (۱۱) عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم، پھر دور صحابہ کے بعد بھی ہر زمانے میں راویوں کی ایک جماعت کثیرہ اس حدیث کو روایت کرتی رہی یہاں تک کہ علامہ قاضی عیاض اور علامہ تاج الدین سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہمانے فرمایاکہ گریۂ ستون کی حدیث''خبرمتواتر''ہے۔(2)

             (شفاء شریف جلد۱ ص۱۹۹ و الکلام المبین ص۱۱۶)

    اس ستون کے بارے میں ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اپنے منبر کے نیچے دفن فرما دیا اور ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ نے اس کو مسجد نبوی کی چھت میں لگا دیا ۔ان دونوں روایتوں میں شارحین حدیث نے اس طرح
1۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ،فصل فی قصۃ حنین الجذع ، ج۱، ص ۳۰۴،۳۰۵

2۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل فی قصۃ حنین الجذع، ج۱، ص ۳۰۳،۳۰۴

و المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی ، باب حنین الجذع شوقاالیہ ، ج۶، ص ۵۲۴
Flag Counter