زار زار رونے لگااور بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ ستون اس قدر زور زور سے رونے لگا کہ قریب تھا کہ جوش گریہ سے پھٹ جائے اور اس رونے کی آواز کو مسجد نبوی کے تمام مصلیوں نے اپنے کانوں سے سنا۔ ستون کی گریہ و زاری کو سن کر حضور رحمۃٌ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منبر سے اتر کر آئے اور ستون پر تسکین دینے کے لئے اپنا مقدس ہاتھ رکھ دیا اور اس کو اپنے سینہ سے لگا لیا تو وہ ستون اس طرح ہچکیاں لے لے کے رونے لگا جس طرح رونے والے بچے کو جب چپ کرایا جاتا ہے تو وہ ہچکیاں لے لے کر رونے لگتا ہے۔ بالآخر جب آپ نے ستون کو اپنے سینہ سے چمٹا لیا تو وہ سکون پا کر خاموش ہو گیا اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ ستون کا یہ رونا اس بنا پر تھا کہ یہ پہلے خدا کا ذکر سنتا تھا اب جو نہ سنا تو رونے لگا۔(1) (بخاری جلد۱ ص۲۸۱ باب النجار و ص۵۰۶ باب علامات النبوۃ)
اور حضرت بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں یہ بھی وارد ہے کہ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس ستون کو اپنے سینہ سے لگا کر یہ فرمایا کہ اے ستون! اگر تو چاہے تو میں تجھ کو پھر اسی باغ میں تیری پہلی جگہ پر پہنچا دوں تا کہ تو پہلے کی طرح ہرا بھرا درخت ہو جائے اور ہمیشہ پھلتا پھولتا رہے اور اگر تیری خواہش ہو تو میں تجھ کو باغ بہشت کا ایک درخت بنا دینے کے لئے خدا سے دعا کر دوں تا کہ جنت میں خدا کے اولیاء تیرا پھل کھاتے رہیں۔ یہ سن کر ستون نے اتنی بلند آواز سے جواب دیا کہ آس پاس کے لوگوں نے بھی سن لیا، ستون کا جواب یہ تھا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میری یہی تمنا ہے کہ میں جنت کا ایک درخت بنا دیا جاؤں تا کہ خدا کے اولیاء میرا پھل کھاتے رہیں اور مجھے حیات جاودانی مل جائے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ