Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
778 - 872
سے جنگ کرو'' وہ ٹہنی ان کے ہاتھ میں آتے ہی ایک نہایت نفیس اور بہترین تلوار بن گئی جس سے وہ عمر بھر تمام لڑائیوں میں جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں وہ شہادت سے سرفراز ہوگئے۔

    اسی طرح حضرت عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تلوار جنگِ اُحد کے دن ٹوٹ گئی تھی تو ان کو بھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک کھجور کی شاخ دے کر ارشاد فرمایا کہ '' تم اس سے لڑو'' وہ حضرت عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں آتے ہی ایک بَرّاق تلوار بن گئی۔ حضرت عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس تلوار کا نام ''عرجون''تھا یہ خلفاء بنو العباس کے دور حکومت تک باقی رہی یہاں تک کہ خلیفہ معتصم باﷲ کے ایک امیر نے اس تلوار کو بائیس دینار میں خریدا اور حضرت عکاشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تلوار کا نام''عون'' تھا،یہ دونوں تلواریں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ کے تصرفات کی یادگار تھیں۔(1)(مدارج النبوۃ جلد۲ ص۱۲۳)
رونے والا ستون
    مسجد نبوی میں پہلے منبر نہیں تھا، کھجور کے تنا کا ایک ستون تھا اسی سے ٹیک لگا کر آپ خطبہ پڑھا کرتے تھے ۔ جب ایک انصاری عورت نے ایک منبر بنوا کر مسجد نبوی میں رکھا تو آپ نے اس پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا شروع کر دیا ناگہاں اس ستون سے بچوں کی طرح رونے کی آواز آنے لگی اور بعض روایات میں آیا ہے کہ اونٹنیوں کی طرح بلبلانے کی آواز آئی ۔یہ راویانِ حدیث کے مختلف ذوق کی بنا پر رونے کی مختلف تشبیہیں ہیں راویوں کا مقصود یہ ہے کہ درد فراق سے بلبلا کر اور بے قرار ہو کر ستون
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ،باب چہارم ، ج ۲ ، ص۱۲۳ملخصاً
Flag Counter