Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
777 - 872
رہے جب کچھ دورچل کردونوں کے گھروں کاراستہ الگ الگ ہو گیاتودوسرے کی چھڑی بھی روشن ہوگئی اور دونوں اپنی اپنی چھڑیوں کی روشنی کے سہارے سخت اندھیری رات میں اپنے اپنے گھروں تک پہنچ گئے۔(1)(مشکوٰۃ جلد ۲ ص ۵۴۴ و بخاری جلد ۱ ص ۵۳۷)

    اسی طرح امام احمد نے حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی رات سخت اندھیری تھی اور آسمان پر گھنگھور گھٹا چھائی ہوئی تھی۔ بوقت روانگی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے انہیں درخت کی ایک شاخ عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تم بلاخوف و خطر اپنے گھر جاؤ یہ شاخ تمہارے ہاتھ میں ایسی روشن ہو جائے گی کہ دس آدمی تمہارے آگے اور دس آدمی تمہارے پیچھے اس کی روشنی میں چل سکیں اور جب تم گھر پہنچو گے تو ایک کالی چیز کو دیکھو گے اس کو مار کر گھر سے نکال دینا۔ چنانچہ ایسا ہی ہواکہ جوں ہی حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاشانۂ نبوت سے نکلے وہ شاخ روشن ہوگئی اور وہ اسی کی روشنی میں چل کر اپنے گھر پہنچ گئے اور دیکھا کہ وہاں ایک کالی چیز موجود ہے آپ نے فرمان نبوت کے مطابق اس کو مار کر گھر سے باہر نکال دیا۔(2) (الکلام المبین فی آیات رحمۃ للعالمین ص ۱۱۶)
لکڑی کی تلوار
    جنگِ بدر کے دن حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تلوار ٹوٹ گئی تو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو ایک درخت کی ٹہنی دے کر فرمایا کہ ''تم اس
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب الفضائل والشمائل،باب الکرامات،الحدیث:۵۹۴۴،ج۲،ص۳۹۹

2۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل،مسندابی سعید الخدری،الحدیث:۱۱۶۲۴،ج۴،ص۱۳۱
Flag Counter