| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
زمین چیرتے ہوئے چل پڑے اور اپنی اپنی جگہ پر پہنچ کر جا کھڑے ہوئے۔(1)(زرقانی جلد ۵ ص ۱۳۱تاص ۱۳۲)
انتباہ
یہی وہ معجزہ ہے جس کو حضرت علامہ بو صیری علیہ الرحمۃ نے اپنے قصیدہ بردہ میں تحریر فرمایا کہ ؎جَاءَ تْ لِدَعْوَتِہِ الْاَشْجَارُ سَاجِدَۃً تَمْشِیْ اِلَیْہِ عَلٰی سَاقٍ بِلَا قَدَمٖ
یعنی آپ کے بلانے پر درخت سجدہ کرتے ہوئے اور بلا قدم کے اپنی پنڈلی سے چلتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے ۔نیز پہلی حدیث سے ثابت ہوا کہ دیندار بزرگوں مثلا علماء و مشائخ کی تعظیم کے لیے ان کے ہاتھ پاؤں کو بوسہ دینا جائز ہے۔ چنانچہ حضرت امام نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب''اذکار''میں اورہم نے اپنی کتاب ''نوادرالحدیث'' میں اس مسئلہ کو مفصل تحریر کیا ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔
چھڑی روشن ہوگئی
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ دو صحابی حضرت اُسید بن حضیر اور عبادبن بشر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اندھیری رات میں بہت دیر تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے بات کرتے رہے جب یہ دونوں بارگاہ رسالت سے اپنے گھروں کے لیے روانہ ہوئے تو ایک کی چھڑی ناگہاں خود بخود روشن ہوگئی اور وہ دونوں اسی چھڑی کی روشنی میں چلتے
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب کلام الشجرلہ وسلامھاعلیہ...الخ ،ج۶، ص ۵۲۰،۵۲۱