Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
775 - 872
    محدث بزارو امام بیہقی و امام بغوی نے اس حدیث میں یہ روایت بھی تحریر فرمائی ہے کہ اس درخت نے بارگاہِ اقدس میں آ کر
''اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اﷲ ''
کہا، اعرابی یہ معجزہ دیکھتے ہی مسلمان ہوگیا اور جوشِ عقیدت میں عرض کیا کہ یارسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کو سجدہ کروں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ اگر میں خدا کے سوا کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کاحکم دیتا تو میں عورتوں کوحکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں۔ یہ فرما کر آپ نے اس کو سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پھر اس نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کے دست مبارک اور مقدس پاؤں کو بوسہ دوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اس کی اجازت دے دی۔ چنانچہ اس نے آپ کے مقدس ہاتھ اور مبارک پاؤں کو والہانہ عقیدت کے ساتھ چوم لیا۔(1)  (زرقانی جلد ۵ ص ۱۲۸ تاص ۱۳۱)

اسی طرح حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ سفرمیں ایک منزل پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم استنجا ء فرمانے کے لیے میدان میں تشریف لے گئے مگر کہیں کوئی آڑ کی جگہ نظر نہیں آئی ہاں البتہ اس میدان میں دو درخت نظر آئے جو ایک دوسرے سے کافی دوری پر تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک درخت کی شاخ پکڑکر چلنے کا حکم دیا تو وہ درخت اس طرح آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا جس طرح مہار والا اونٹ مہار پکڑنے والے کے ساتھ چلنے لگتا ہے پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوسرے درخت کی ٹہنی تھام کر اس کو بھی چلنے کا اشارہ فرمایا تو وہ بھی چل پڑا اور دونوں درخت ایک دوسرے سے مل گئے اور آپ نے اس کی آڑ میں اپنی حاجت رفع فرمائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ دونوں درخت
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب کلام الشجرلہ وسلامھاعلیہ...الخ،ج۶،ص۵۱۷۔۵۱۹
Flag Counter