Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
774 - 872
رسالت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ مجھے یہ کیونکر یقین ہو کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اس کھجورکے درخت پر جو خوشہ لٹک رہا ہے اگر میں اس کو اپنے پاس بلاؤں اور وہ میرے پاس آ جائے تو کیا تم میری نبوت پر ایمان لاؤ گے؟ اس نے کہا کہ ہاں بے شک میں آپ کا یہ معجزہ دیکھ کر ضرور آپ کوخدا کا رسول مان لوں گا۔ آپ نے کھجور کے اس خوشہ کو بلایا تو وہ فوراً ہی چل کر درخت سے اترا اور آپ کے پاس آ گیا پھر آپ نے حکم دیا تو وہ واپس جا کر درخت میں اپنی جگہ پر پیوست ہوگیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر وہ اعرابی فوراً ہی دامن اسلام میں آگیا۔(1) (ترمذی جلد ۲ ص ۲۰۳ باب ماجاء فی آیات نبوۃ النبی الخ)
درخت چل کر آیا
    حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ہم لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ ایک اعرابی آپ کے پاس آیا،آپ نے اس کو اسلام کی دعوت دی، اس اعرابی نے سوال کیا کہ کیا آپ کی نبوت پر کوئی گواہ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں یہ درخت جو میدان کے کنارے پر ہے میری نبوت کی گواہی دے گا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس درخت کو بلایا اور وہ فوراً ہی زمین چیرتا ہوا اپنی جگہ سے چل کر بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوگیا اور اس نے بہ آواز بلند تین مرتبہ آپ کی نبوت کی گواہی دی۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اشارہ فرمایا تو وہ درخت زمین میں چلتا ہوا اپنی جگہ پر چلاگیا۔
1۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب ماجاء فی آیات اثبات نبوۃ...الخ،الحدیث:۳۶۴۸، ج۵،ص ۳۶۰
Flag Counter