| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
علیہ وسلم نے فرمایا کہ مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھ کو سلام کیا کرتا تھا میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔(1)(ترمذی جلد ۲ ص ۲۰۳)
پہاڑ کا ہلنا
بخاری شریف کی یہ روایت چند اوراق پہلے ہم تحریر کر چکے ہیں کہ ایک دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے ساتھ حضرت ابو بکر و حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو لے کر احد پہاڑ پر چڑھے پہاڑ (جوشِ مسرت میں) جھوم کر ہلنے لگا اس وقت آپ نے پہاڑ کو ٹھوکر مار کر یہ فرمایا کہ ''ٹھہر جا'' اس وقت تیری پشت پر ایک پیغمبر ہے اور ایک صدیق ہے اور دو (حضرت عمرو حضرت عثمان) شہید ہیں۔(2)
(بخاری جلد ۱ ص ۵۱۹ باب فضل ابی بکر)مٹھی بھر خاک کا شاہکار
مسلم شریف کی حدیث میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ حنین میں جب کفار نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو آپ اپنی سواری سے اتر پڑے اورزمین سے ایک مٹھی مٹی لے کرکفار کے چہروں پر پھینکی اور''شَاھَتِ الْوُجُوْہُ'' فرمایاتو کافروں کے لشکر میں کوئی ایک انسان بھی باقی نہیں رہا جس کی دونوں آنکھیں اِسی مٹی سے نہ بھر گئی ہوں چنانچہ وہ سب اپنی اپنی آنکھیں ملتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے اور شکست کھا گئے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان
1۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب ماجاء فی آیات اثبات نبوۃ...الخ،الحدیث:۳۶۴۴، ج۵،ص۳۵۸ 2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب قول النبی: لوکنت متخذا خلیلا،ج۲،ص ۵۲۴