| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ہوتی تھی۔ فتح مکہ کے دن حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کعبہ میں تشریف لے گئے، اس وقت دست مبارک میں ایک چھڑی تھی اور آپ زبان اقدس سے یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے کہ
وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَہَقَ الْبَاطِلُ ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾ (1)
حق آگیا اور باطل مٹ گیا یقینا باطل مٹنے ہی کے قابل تھا۔
آپ اپنی چھڑی سے جس بت کی طرف اشارہ فرماتے تھے وہ بغیر چھوئے ہوئے فقط اشارہ کرتے ہی دھم سے زمین پر گر پڑتاتھا۔(2) (مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۹۰ بخاری جلد ۲ ص ۶۱۴)پہاڑوں کا سلام کرنا
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضورِ انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں ایک طرف کو نکلا تو میں نے دیکھا کہ جو درخت اور پہاڑ بھی سامنے آتا ہے اس سے
''اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ ''
کی آواز آتی ہے اور میں خود اس آواز کو اپنے کانوں سے سن رہا تھا۔(3)
(ترمذی جلد ۲ ص ۲۰۳ باب ماجاء فی آیات نبوۃ النبی)
اسی طرح حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ1۔۔۔۔۔۔پ ۱۵،بنی اسرء یل:۸۱ 2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ہفتم ، ج ۲ ، ص۲۹۰ 3۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی ،کتاب المناقب ، باب ماجاء فی آیات اثبات نبوۃ...الخ، الحدیث: ۳۶۴۶،ج۵،ص ۳۵۹