| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ہم پہلے تحریر کر چکے ہیں کہ حضورشہنشاہ کونین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات کی حکمرانی کا پرچم عالم کائنات کی تمام مخلوقات پر لہرا چکاہے۔ چنانچہ چند آسمانی معجزات کاتذکرہ توہم تحریر کرچکے ہیں اب مناسب معلوم ہوتاہے کہ روئے زمین پر ظاہر ہونے والے بے شمار معجزات کی چند مثالیں بھی تحریر کردی جائیں تاکہ ناظرین کے ذہنوں میں اس حقیقت کی تجلی آفتاب کی طرح روشن ہو جائے کہ خدا کی مخلوقات میں کوئی ایسا عالم نہیں جہاں رحمۃٌ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات و تصرفات کی سلطنت کا سکہ نہ چلتا ہو۔
چٹان کا بکھر جانا
غزوۂ خندق کے بیان میں ہم تفصیل کے ساتھ لکھ چکے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مدینہ کے چاروں طرف کفار کے حملوں سے بچنے کے لیے خندق کھود رہے تھے اتفاق سے ایک بہت ہی سخت چٹان نکل آئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنی اجتماعی طاقت سے ہر چند اس کو توڑنا چاہا مگر وہ کسی طرح نہ ٹوٹ سکی، پھاوڑے اس پر پڑ پڑ کر اُچٹ جاتے تھے۔ جب لوگوں نے مجبور ہو کر خدمت اقدس میں یہ ماجرا عرض کیا تو آپ خود اٹھ کر تشریف لائے اور پھاوڑا ہاتھ میں لے کر ایک ضرب لگائی تو وہ چٹان ریت کے بھربھرے ٹیلوں کی طرح چور ہو کر بکھر گئی۔(1)(بخاری جلد ۲ ص ۵۸۸ خندق)
اشارہ سے بتوں کا گر جانا
ہر شخص جانتا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الخندق،الحدیث:۴۱۰۱،ج۳،ص۵۱