Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
767 - 872
    اسی طرح علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا ہے کہ ۳ جمادی الآخرۃ ۶۵۴ ؁ھ کو مدینہ منورہ میں ناگہاں ایک گھرگھراہٹ کی آواز سنائی دینے لگی پھر نہایت ہی زوردار زلزلہ آیا جس کے جھٹکے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد دو دن تک محسوس کیے جاتے رہے۔ پھر بالکل اچانک قبیلہ قریظہ کے قریب پہاڑوں میں ایک ایسی خوفناک آگ نمودار ہوئی جس کے بلند شعلے مدینہ سے ایسے نظر آ رہے تھے کہ گویا یہ آگ مدینہ منورہ کے گھروں میں لگی ہوئی ہے۔ پھر یہ آگ بہتے ہوئے نالوں کی طرح سیلاب کے مانند پھیلنے لگی اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ پہاڑیاں آگ بن کر بہتی چلی جا رہی ہیں اور پھر اس کے شعلے اس قدر بلند ہوگئے کہ آگ کا ایک پہاڑ نظر آنے لگا اور آگ کے شرارے ہر چہار طرف فضاؤں میں اڑنے لگے۔ یہاں تک کہ اس آگ کی روشنی مکہ مکرمہ سے نظر آنے لگی اور بہت سے لوگوں نے شہر بصریٰ میں رات کو اسی آگ کی روشنی میں اونٹوں کی گردنوں کو دیکھ لیا۔ اہل مدینہ آگ کے اس ہولناک منظر سے لرزہ براندام ہو کردہشت اور گھبراہٹ کے عالم میں توبہ اوراستغفار کرتے ہوئے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کے پاس پناہ لینے کے لیے مجتمع ہوگئے۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ تک یہ آگ جلتی رہی اور پھر خود بخود رفتہ رفتہ اس طرح بجھ گئی کہ اس کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہا۔(1)(تاریخ الخلفاء ص ۳۲۴)
فتنوں کے علمبردار
    حضرت حذیفہ بن یمان صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی بھول گئے ہیں یا جانتے ہوئے انجان بن رہے ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔ تاریخ الخلفاء،المستعصم باللہ عبداللہ بن المستنصرباللہ، ص۴۶۵
Flag Counter