| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
واﷲ! دنیا کے خاتمہ تک جتنے فتنوں کے ایسے قائدین ہیں جن کے متبعین کی تعداد تین سو یا اس سے زائد ہوں ان سب فتنوں کے علمبرداروں کا نام، ان کے باپوں کا نام، ان کے قبیلوں کا نام رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو بتادیا ہے۔(1)
(ابوداود جلد ۲ ص ۲۳۱ کتاب الفتن)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے گمراہوں اور فتنوں کے ہزاروں لاکھوں سرداروں اور علمبرداروں کے نام مع ولدیت و سکونت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بتا دئیے۔ ظاہر ہے کہ یہ علم غیب ہے جو اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔قیامت تک کے واقعات
مسلم شریف کی حدیث ہے، حضرت عمرو بن اخطب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم لوگوں کو نماز فجر پڑھا کر منبر پر تشریف لے گئے اور ہم لوگوں کو خطبہ سناتے رہے یہاں تک کہ نماز ظہر کا وقت آ گیا۔ پھر آپ نے منبر سے اتر کر نماز ظہر ادافرمائی۔ پھر خطبہ دینے میں مشغول ہوگئے یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا۔ اس وقت آپ نے منبر سے اتر کر نماز عصر پڑھائی پھر منبر پر چڑھ کر خطبہ پڑھنے لگے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو اس دن بھر کے خطبہ میں حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو تمام ان واقعات کی خبر دے دی جو قیامت تک ہونے والے تھے تو جس شخص نے جس قدر زیادہ اس خطبہ کو یادرکھا وہ ہم صحابہ میں سب سے زیادہ علم والاہے۔(2)(مشکوٰۃ جلد ۲ ص ۵۴۳)
1۔۔۔۔۔۔سنن ابی داود،کتاب الفتن والملاحم،باب ذکر الفتن ودلائلھا،الحدیث:۴۲۴۳،ج۴،ص۱۲۹ 2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ...الخ،باب فی المعجزات،ا لحدیث:۵۹۳۶،ج۲،ص۳۹۷