Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
733 - 872
چاک برابر کر دیا۔ پھر آپ براق پر سوار ہو کر بیت المقدس تشریف لائے۔ براق کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نگاہ کی آخری حد ہوتی تھی۔ بیت المقدس پہنچ کر براق کو آپ نے اس حلقہ میں باندھ دیا جس میں انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے پھر آپ نے تمام انبیاء اور رسولوں علیہم السلام کو جو وہاں حاضر تھے دو رکعت نماز نفل جماعت سے پڑھائی۔(1) (تفسیر روح البیان جلد ۵ ص ۱۱۲)

    جب یہاں سے نکلے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے شراب اور دودھ کے دو پیالے آپ کے سامنے پیش کیے آپ نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے فطرت کو پسند فرمایا اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے کر آسمان پر چڑھے پہلے آسمان میں حضرت آدم علیہ السلام سے، دوسرے آسمان میں حضرت یحیی و حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے جو دونوں خالہ زاد بھائی تھے ملاقاتیں ہوئیں اور کچھ گفتگو بھی ہوئی۔ تیسرے آسمان میں حضرت یوسف علیہ السلام ،چوتھے آسمان میں حضرت ادریس علیہ السلام اورپانچویں آسمان میں حضرت ہارون علیہ السلام اورچھٹے آسمان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے اور ساتویں آسمان پر پہنچے تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ بوقتِ ملاقات ہر پیغمبر نے ''خوش آمدید! اے پیغمبر صالح ''کہہ کر آپ کا استقبال کیا۔ پھر آپ کو جنت کی سیر کرائی گئی۔ اس کے بعد آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے۔ اس درخت
1۔۔۔۔۔۔تفسیرروح البیان ،پ۱۵،الاسرائ،تحت الایۃ:۱،ج۵،ص ۱۰۶۔۱۱۲ملتقطاً
Flag Counter