بہرحال علماء اہل سنت کا یہی مسلک ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے شبِ معراج میں اپنے سر کی آنکھوں سے اﷲ تعالیٰ کی ذات مقدسہ کا دیدار کیا۔
اس معاملہ میں رویت کے علاوہ ایک روایت بھی خاص طور پر قابل تو جہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے محبوب کو اﷲ تعالیٰ نے انتہائی شوکت و شان اور آن بان کے ساتھ اپنا مہمان بنا کر عرش اعظم پر بلایا اور خلوت گاہ راز میں ۔۔۔۔۔کے نازو نیاز کے کلاموں سے سرفراز بھی فرمایا ۔مگر ان بے پناہ عنایتوں کے باوجود اپنے حبیب کو اپنا دیدار نہیں دکھایا اورحجاب فرمایا یہ ایک ایسی بات ہے جو مزاج عشق و محبت کے نزدیک مشکل ہی سے قابل قبول ہو سکتی ہے کیونکہ کوئی شاندار میزبان اپنے شاندار مہمان کو اپنی ملاقات سے محروم رکھے اور اس کو اپنا دیدار نہ دکھائے یہ عشق و محبت کا ذوق رکھنے والوں کے نزدیک بہت ہی ناقابل فہم بات ہے۔ لہٰذا ہم عشق بازوں کا گروہ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرح اپنی آخری سانس تک یہی کہتا رہے گا کہ
؎
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
(اعلیٰ حضرت رحمہ اﷲ تعالیٰ )