Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
734 - 872
پر جب انوار الٰہی کا پر توپڑا تو ایک دم اس کی صورت بدل گئی اور اس میں رنگ برنگ کے انوار کی ایسی تجلی نظر آئی جن کی کیفیتوں کو الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔ یہاں پہنچ کر حضرت جبریل علیہ السلام یہ کہہ کر ٹھہر گئے کہ اب اس سے آگے میں نہیں بڑھ سکتا۔ پھر حضرت حق جل جلالہٗ نے آپ کو عرش بلکہ عرش کے اوپر جہاں تک اس نے چاہا بلا کر آپ کو باریاب فرمایا اور خلوت گاہ راز میں نازو نیاز کے وہ پیغام ادا ہوئے جن کی لطافت و نزاکت الفاظ کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتی۔ چنانچہ قرآن مجیدمیں
فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی ﴿ؕ۱۰﴾ (1)
کے رمزو اشارہ میں خداوند قدوس نے اس حقیقت کو بیان فرما دیا ہے۔(2)

    بارگاہ الٰہی میں بے شمار عطیات کے علاوہ تین خاص انعامات مرحمت ہوئے جن کی عظمتوں کو اﷲ و رسول کے سوا اور کون جان سکتا ہے۔

(۱) سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں۔ (۲) یہ خوشخبری کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت کا ہر وہ شخص جس نے شرک نہ کیا ہو بخش دیاجائے گا۔ (۳) امت پر پچاس وقت کی نماز۔

    جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان خداوندی عطیات کو لے کر واپس آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے عرض کیاکہ آپ کی امت سے ان پچاس نمازوں کا بار نہ اٹھ سکے گا لہٰذا آپ واپس جاےئے اور اﷲ تعالیٰ سے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے چند بارآپ بارگاہ الٰہی میں آتے جاتے اور عرض پرداز ہوتے رہے یہاں تک کہ صرف پانچ وقت کی نمازیں رہ گئیں اور اﷲ تعالیٰ
1۔۔۔۔۔۔پ۲۷،النجم:۱۰

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم اول ،باب پنجم ، ج۱، ص ۱۶۲۔۱۶۴ملتقطاً 

والمواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،المقصدالخامس فی تخصیصہ...الخ،ج۸،ص۳۰۔۳۷
Flag Counter