Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
731 - 872
کہ''رَأیْتُ ربِّیْ'' یعنی میں نے اپنے رب کو دیکھا۔

    محدث عبدالرزاق ناقل ہیں کہ حضرت امام حسن بصری اس بات پر حلف اٹھاتے تھے کہ یقینا حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اور بعض متکلمین نے نقل کیا ہے کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی یہی مذہب تھا اورابن اسحق ناقل ہیں کہ حاکم مدینہ مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا کہ کیاحضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ ''جی ہاں''

    اسی طرح نقاش نے حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مذہب کا قائل ہوں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا، دیکھا ،دیکھا، اتنی دیر تک وہ دیکھاکہتے رہے کہ ان کی سانس ٹوٹ گئی۔(1) (شفاء جلد۱ ص ۱۱۹ تا ص ۱۲۰)

    صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شریک بن عبداﷲ نے جو معراج کی روایت کی ہے اس کے آخر میں ہے کہ
حَتّٰی جَآءَ سِدْرَۃَ الْمُنْتَھیٰ وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّۃِ فَتَدَلّٰی حَتّٰی کَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ۔(2)(بخاری جلد ۲ ص ۱۱۲۰ با ب قول اﷲ: وکلم اﷲ ۔ الخ)
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ پر تشریف لائے اور عزت والا جبار (اﷲ تعالیٰ) یہاں تک قریب ہوا اور نزدیک آیا کہ دو کمانوں یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا۔
1۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل وامارؤیتہ لربہ،ج۱،ص۱۹۶،۱۹۷

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب التوحید، باب قولہ تعالٰی: وکلم اللہ موسی...الخ، الحدیث: ۷۵۱۷،ج۴، ص۵۸۰،۵۸۱
Flag Counter