Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
730 - 872
کہ معراج میں آپ نے اﷲ تعالیٰ کو نہیں دیکھا اور ان حضرات نے
مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿۱۱﴾ (1)
کی تفسیر میں یہ فرمایاکہ آپ نے خدا کو نہیں دیکھا بلکہ معراج میں حضرت جبریل علیہ السلام کو انکی اصلی شکل و صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پرتھے اور بعض سلف مثلاً حضرت سعید بن جبیر تابعی نے اس مسئلہ میں کہ دیکھایا نہ دیکھا کچھ بھی کہنے سے توقف فرمایا مگر صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک بہت بڑی جماعت نے یہ فرمایا ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے سر کی آنکھوں سے اﷲ تعالیٰ کو دیکھا۔(2)(شفاء جلد۱ ص ۱۲۰ تا ۱۲۱)

چنانچہ عبداﷲبن الحارث نے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک مجلس میں جمع ہوئے توحضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کوئی کچھ بھی کہتا رہے لیکن ہم بنی ہاشم کے لوگ یہی کہتے ہیں کہ بلاشبہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یقیناً اپنے رب کو معراج میں دو مرتبہ دیکھا۔ یہ سن کر حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس زور کے ساتھ نعرہ مارا کہ پہاڑیاں گونج اٹھیں اور فرمایا کہ بے شک حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے کلام کیا اور حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا۔

    اسی طرح حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿۱۱﴾ (3)
کی تفسیر میں فرمایا کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ اسی طرح حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
1۔۔۔۔۔۔پ۲۷،النجم:۱۱

2۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل واما رؤیتہ لربہ،ج۱،ص۱۹۶، ۱۹۷ ملخصاً

3۔۔۔۔۔۔پ۲۷،النجم:۱۱
Flag Counter