Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
728 - 872
    معراج کادوسرا نام''اسراء'' بھی ہے۔''اسراء'' کے معنی رات کو چلانا یا رات کو لے جانا چونکہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے واقعہ معراج کو خداوند ِعالم نے قرآن مجید میں سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا(1)کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے اس لیے معراج کا نام''اسراء''پڑ گیا اور چونکہ حدیثوں میں معراج کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے''عُرِجَ بِیْ'' (مجھ کو اوپر چڑھایا گیا) کا لفظ ارشاد فرمایا اس لیے اس واقعہ کانام ''معراج'' پڑا۔

    احادیث و سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کو بہت کثیر التعداد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان کیا ہے۔ چنانچہ علامہ زرقانی نے ۴۵ صحابیوں کو نام بنام گنایا ہے جنہوں نے حدیث معراج کو روایت کیاہے جیسا کہ ہم اپنی کتاب ''نورانی تقریریں'' میں اس کاکسی قدر مفصل تذکرہ تحریر کر چکے ہیں۔(2)
معراج کب ہوئی؟
    معراج کی تاریخ، دن اور مہینہ میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ لیکن اتنی بات پر بلا اختلاف سب کااتفاق ہے کہ معراج نزول وحی کے بعداور ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے جو مکہ معظمہ میں پیش آیا اور ابن قتیبہ دینوری(المتوفی   ۲۶۷؁ھ)اور ابن عبدالبر(المتوفی ۴۶۳؁ھ)اور امام رافعی وامام نووی نے تحریر فرمایا کہ واقعہ معراج رجب کے مہینے میں ہوا۔ اور محدث عبدالغنی مقدسی نے رجب کی ستائیسویں بھی متعین کر دی
1۔۔۔۔۔۔بپ ۱۵، بنی اسراء یل:۱

2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،المقصد الخامس فی تخصیصہ...الخ،ج۸، ص ۲۵۔۲۷
Flag Counter