Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
726 - 872
    تم جان لو کہ اس حدیث کو امام طحاوی نے اپنی کتاب ''شرح مشکل الآثار'' میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دوسندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دونوں حدیثیں ثابت ہیں اور ان دونوں کے روایت کرنے والے ثقہ ہیں اور اس حدیث کو قاضی عیاض نے ''شفاء'' میں اور حافظ ابن سیدالناس نے ''بشری اللبیب'' میں اورحافظ علاء الدین مغلطائی نے اپنی کتاب ''الزہرالباسم'' میں نقل کیا ہے اور ابوالفتح ازدی نے اس حدیث کو ''صحیح'' بتایا اور ابوزرعہ عراقی اور ہمارے شیخ جلال الدین سیوطی نے ''الدررالمنتشرہ فی الاحادیث المشہترہ'' میں اس حدیث کو ''حسن'' بتایا اور حافظ احمد بن صالح نے فرمایا کہ تم کو یہی کافی ہے اور علماء کو اس حدیث سے پیچھے نہیں رہنا چاہے کیونکہ یہ نبوت کے بہت بڑے معجزات میں سے ہے اور حدیث کے حفاظ نے اس بات کو برا مانا ہے کہ ''ابن جوزی'' نے اس حدیث کو ''کتاب الموضوعات'' میں ذکر کر دیا ہے۔
سورج ٹھہر گیا
    حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے آسمانی معجزات میں سے سورج پلٹ آنے کے معجزہ کی طرح چلتے ہوئے سورج کا ٹھہر جانا بھی ایک بہت ہی عظیم معجزہ ہے جو معراج کی رات گزر کر دن میں وقوع پذیر ہوا۔ چنانچہ یونس بن بکیر نے ابن اسحق سے روایت کی ہے کہ جب کفار قریش نے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اپنے اس قافلہ کے حالات دریافت کیے جو ملک شام سے مکہ آ رہا تھا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں میں نے تمہارے اس قافلہ کو بیت المقدس کے راستہ میں دیکھا ہے اور وہ بدھ کے دن مکہ آ جائے گا۔ چنانچہ قریش نے بدھ کے دن شہر سے باہر نکل کر اپنے قافلہ کی آمد کا
Flag Counter