تم جان لو کہ اس حدیث کو امام طحاوی نے اپنی کتاب ''شرح مشکل الآثار'' میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دوسندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دونوں حدیثیں ثابت ہیں اور ان دونوں کے روایت کرنے والے ثقہ ہیں اور اس حدیث کو قاضی عیاض نے ''شفاء'' میں اور حافظ ابن سیدالناس نے ''بشری اللبیب'' میں اورحافظ علاء الدین مغلطائی نے اپنی کتاب ''الزہرالباسم'' میں نقل کیا ہے اور ابوالفتح ازدی نے اس حدیث کو ''صحیح'' بتایا اور ابوزرعہ عراقی اور ہمارے شیخ جلال الدین سیوطی نے ''الدررالمنتشرہ فی الاحادیث المشہترہ'' میں اس حدیث کو ''حسن'' بتایا اور حافظ احمد بن صالح نے فرمایا کہ تم کو یہی کافی ہے اور علماء کو اس حدیث سے پیچھے نہیں رہنا چاہے کیونکہ یہ نبوت کے بہت بڑے معجزات میں سے ہے اور حدیث کے حفاظ نے اس بات کو برا مانا ہے کہ ''ابن جوزی'' نے اس حدیث کو ''کتاب الموضوعات'' میں ذکر کر دیا ہے۔