| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ھٰذَانِ الْحَدِیْثَانِ ثَابِتَانِ وَرُوَاتُھُمَا ثِقَاتٌ۔۔۔۔۔۔(1)
یعنی یہ دونوں روایتیں ثابت ہیں اور ان کے راوی ثقہ ہیں۔ (شفاء شریف جلد۱ ص ۱۸۵)
اسی طرح حضرت شیخ عبدالحق محدت دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی علامہ ابن جوزی کی جرحوں کو رد کردیا ہے اور اس حدیث کے صحیح اورحسن ہونے کی پرزور تائید فرمائی ہے۔(2) (مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۵۴)
اسی طرح ازالۃ الخفاء میں علامہ محمد بن یوسف دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب ''مزیل اللبس عن حدیث ردالشمس'' کی یہ عبارت منقول ہے کہاعلم ان ھذا الحدیث رواہ الطحاوی فی کتابہ ''شرح مشکل الاثار'' عن اسماء بنت عمیس من طریقین وقال ھذان الحدیثان ثابتان ورواتھما ثقات ونقلہ قاضی عیاض فی''الشفاء''والحافظ ابن سید الناس فی ''بشری اللبیب''والحافظ علاء الدین مغلطائی فی کتابہ ''الزھر الباسم'' وصححہ ابوالفتح الازدی وحسنہ ابو زرعۃ بن العراقی وشیخنا الحافظ جلال الدین السیوطی فی ''الدرر المنتشرۃ فی الاحادیث المشتھرۃ''وقال الحافظ احمد بن صالح و ناہیک بہ لاینبغی لمن سبیلہ العلم التخلف عن حدیث اسماء لانہ من اجل علامات النبوۃ وقدانکرالحفاظ علی ابن الجوزی ایرادہ الحدیث فی''کتاب الموضوعات'' (3)(التقریر المعقول فی فضل الصحابۃ واہل بیت الرسول ص ۸۸)
1۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل فی انشقاق القمر وحبس الشمس ، ج۱ ، ص ۲۸۴ 2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ششم ، ج ۲ ، ص ۲۵۴ 3۔۔۔۔۔۔ازالۃ الخفائ،مقصد دوم،امامآثر امیر المؤمنین...الخ،ج۴،ص۴۸۸