Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
711 - 872
شکست کھا جانا اس کو تائید خداوندی اور غیبی امداد و نصرت کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ اس لحاظ سے یقینا یہ عادات جاریہ کے خلاف اور ظاہری اسباب و علل سے بالاتر ہے۔ لہٰذا یہ بھی یقینا معجزہ ہے۔

    سوم: ایک صورت یہ بھی ہے کہ نہ تو بذات خود وہ واقعہ خلاف عادت ہوتا ہے نہ اس کے ظاہر ہونے کے وقت خاص میں خلافِ عادت کوئی بات ہوتی ہے۔ مگر اس واقعہ کے ظاہر ہونے کا طریقہ بالکل ہی نادر الوجود اور خلافِ عادت ہوا کرتا ہے۔ مثلاً انبیاء علیہم السلام کی دعاؤں سے بالکل ہی ناگہاں پانی کا برسنا، بیماروں کا شفایاب ہوجانا، آفتوں کا ٹل جانا۔

    ظاہر ہے کہ یہ باتیں نہ تو خلاف عادت ہیں نہ ان کے ظاہر ہونے کا کوئی خاص وقت ہے بلکہ یہ باتیں تو ہمیشہ ہوا ہی کرتی ہیں لیکن جن طریقوں اور جن اسباب سے یہ چیزیں وقوع پذیر ہوئیں کہ ایک دم ناگہاں نبی نے دعا مانگی اور بالکل ہی اچانک یہ چیزیں ظہور میں آگئیں۔ اس اعتبار سے یقینا بلاشبہ یہ ساری چیزیں خارق عادات اور ظاہری اسباب سے الگ اور بالاتر ہیں۔ لہٰذا یہ چیزیں بھی معجزات ہی کہلائیں گے۔

    چہارم:کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نہ تو خود واقعہ عادات جاریہ کے خلاف ہوتا ہے نہ اس کا طریقہ ظہور خارق عادت ہوتا ہے لیکن بلا کسی ظاہری سبب کے نبی کو اس واقعہ کا قبل از وقت علم غیب حاصل ہو جانا اور واقعہ کے وقوع سے پہلے ہی نبی کا اس واقعہ کی خبر دے دینا یہ خلاف عادت ہوتا ہے۔ مثلاً حضرات انبیاء علیہم السلام نے واقعات کے ظہور سے بہت پہلے جو غیب کی خبریں دی ہیں یہ سب واقعات اس اعتبار