جب معجزہ کے لیے یہ ضروری اور لازمی شرط ہے کہ وہ کسی نہ کسی لحاظ سے انسانی طاقتوں سے بالاتر اور عادات جاریہ کے خلاف ہو۔ اس بنا پر اگر بغور دیکھا جائے تو خارق عادت ہونے کے اعتبار سے معجزات کی چار قسمیں ملیں گی جو حسب ِذیل ہیں:
اول : بذات خود وہ چیز ہی ایسی ہو جو ظاہری اسباب و عادات کے بالکل ہی خلاف ہو جیسے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا چاند کو دو ٹکڑے کرکے دکھا دینا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بن کر جادوگروں کے سانپوں کو نگل جانا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کر دینا وغیرہ وغیرہ۔
دوم: بذات خود وہ چیز تو خلاف عادت نہیں ہوتی مگر کسی خاص وقت پر بالکل ہی ناگہاں نبی سے اس کا ظہور ہو جانااس اعتبار سے یہ چیز خارق عادت ہو جایا کرتی ہے لہٰذا یہ بھی معجزہ ہی کہلائے گا۔ مثلاً جنگ ِ خندق میں اچانک ایک خوفناک آندھی کا آ جانا جس سے کفار کے خیمے اکھڑ اکھڑکر اڑ گئے اور بھاری بھاری دیگیں چولھوں پر سے الٹ پلٹ کر دور جا کر گر پڑیں یا جنگ ِ بدر میں تین سو تیرہ مسلمانوں کے مقابلہ میں کفار کے ایک ہزار لشکر جرار کا جو مکمل طور پر مسلح تھے شکست کھا کر مقتول و گرفتار ہو جانا۔ ظاہر ہے کہ آندھی کاآنا یاکسی لشکر کا شکست کھا جانا یہ بذات خود کوئی خلافِ عادت بات نہیں ہے بلکہ یہ تو ہمیشہ ہواہی کرتا ہے لیکن اس ایک خاص موقع پر جب کہ رسول کو تائید ربانی کی خاص ضرورت محسوس ہوئی بغیر کسی ظاہری سبب کے بالکل ہی اچانک آندھی کا آ جانا اور کفار کا باوجود کثرت تعداد کے قلیل مسلمانوں سے