Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
712 - 872
سے خارق عادات اور معجزات ہیں۔ چنانچہ مسلم شریف کی روایت ہے کہ ایک روز بہت ہی زوردار آندھی چلی اس وقت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف فرما تھے آپ نے اسی جگہ فرمایا کہ یہ آندھی مدینہ کے ایک منافق کی موت کے لیے چلی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب لوگ مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ مدینہ کا ایک منافق اس آندھی سے ہلاک ہوگیا۔(1)(مشکوٰۃ شریف جلد ۲ ص ۵۳۷ باب المعجزات)

    غور کیجئے کہ اس واقعہ میں نہ تو آندھی کا چلنا خلافِ عادت ہے نہ کسی آدمی کا آندھی سے ہلاک ہونا اسباب و عادات کے خلاف ہے کیونکہ آندھی ہمیشہ آتی ہی رہتی ہے اور آندھی میں ہمیشہ آدمی مرتے ہی رہتے ہیں لیکن اس واقعہ کا قبل از وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو علم ہو جانا اور آپ کا لوگوں کو اس غیب کی خبر پر قبل از وقت مطلع کردینا یقینا بلاشبہ یہ خرق عادات اور معجزات میں سے ہے۔
انبیاء سابقین اور خاتم النبیین کے معجزات
    ہر نبی کا معجزہ چونکہ اس کی نبوت کے ثبوت کی دلیل ہوا کرتا ہے اس لیے خداوند عالم نے ہر نبی کو اس دور کے ماحول اور اس کی امت کے مزاج عقل و فہم کے مناسب معجزات سے نوازا۔ چنانچہ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں چونکہ جادو اور ساحرانہ کارنامے اپنی ترقی کی اعلیٰ ترین منزل پر پہنچے ہوئے تھے اس لیے اﷲ تعالیٰ نے آپ کو ''یدبیضا'' اور'' عصا ''کے معجزات عطا فرمائے جن سے آپ نے جادوگروں کے ساحرانہ کارناموں پر اس طرح غلبہ حاصل فرمایا کہ تمام جادوگر سجدہ میں گر پڑے اور آپ کی نبوت پر ایمان لائے۔
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح ،کتاب احوال القیامۃ ...الخ ،باب المعجزات ، الحدیث: ۵۹۰۰، ج۲ ، ص۳۸۷
Flag Counter