Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
705 - 872
''حمص'' چلے گئے تھے اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔(1)(زرقانی جلد ۳ ص ۳۰۱)

(۱۲) حضرت ابوالسمع رضی اللہ تعالیٰ عنہ !حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے غلام تھے پھر آپ نے ان کو آزاد فرما دیا مگر یہ دربار نبوت سے جدا نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ خدمت گزاری میں مصروف رہے۔ حضور علیہ ا لصلوٰۃ والسلام کو اکثر یہی غسل کرایا کرتے تھے۔ ان کا نام ''اِیاد'' تھا۔(2)(زرقانی جلد ۳ص ۳۰۱)
خصوصی محافظین
    کفار چونکہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جانی دشمن تھے اور ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے تھے کہ اگر اک ذرا بھی موقع مل جائے تو آپ کو شہید کر ڈالیں۔ بلکہ بارہا قاتلانہ حملہ بھی کر چکے تھے۔ اس لیے کچھ جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم باری باری سے راتوں کو آپ کی مختلف خوابگاہوں اور قیام گاہوں کا شمشیر بکف ہو کر پہرہ دیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب کہ یہ آیت نازل ہوگئی کہ وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ط(3) یعنی ''اﷲ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچائے گا۔'' اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب پہرہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرما لیا ہے کہ وہ مجھ کو میرے تمام دشمنوں سے بچائے گا۔ ان جاں نثار پہرہ داروں میں چند خوش نصیب صحابہ کرام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں جن کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ 

(۱)حضرت ابو بکر صدیق (۲) حضرت سعد بن معاذ انصاری (۳) حضرت محمد
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،باب فی خدمہ صلی اللہ علیہ وسلم...الخ،ج۴،ص۵۱۵

2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،باب فی خدمہ صلی اللہ علیہ وسلم...الخ،ج۴،ص۵۱۵،۵۱۶

3۔۔۔۔۔۔پ۶،المائدۃ:۶۷
Flag Counter