نامی گاؤں میں ان کاوصال ہوا اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔(1)(زرقانی جلد ۳ ص ۳۰۰)
(۸) حضرت مہاجر مولیٰ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما !یہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام تھے۔ شرف صحابیت کے ساتھ ساتھ پانچ برس تک حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت کا بھی شرف حاصل کیا۔ بہت ہی بہادر مجاہد بھی تھے۔ مصر کو فتح کرنے والی فوج میں شامل تھے۔ کچھ دنوں تک مصر میں رہے۔ پھر ''طحا'' چلے گئے اور وہاں اپنی وفات تک مقیم رہے۔(2) (زرقانی جلد۳ ص۳۰۱)
(۹) حضرت حنین مولیٰ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما !یہ پہلے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے غلام تھے اور دن رات آپ کی خدمت کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرما دیا اور یہ حضرت عباس کے غلام ہوگئے۔ لیکن چند ہی دنوں کے بعد حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو اس لیے آزاد کردیا تاکہ یہ دن رات بارگاہِ نبوت میں حاضر رہیں اورخدمت کرتے رہیں۔(3)(زرقانی جلد۳ ص ۳۰۱)
(۱۰) حضرت نعیم بن ربیعہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ !یہ بھی خادمانِ بارگاہِ رسالت کی فہرست خاص میں شمار کیے جاتے ہیں۔(4)(زرقانی جلد ۳ ص ۳۰۱)
(۱۱) حضرت ابوالحمراء رضی اللہ تعالیٰ عنہ! ان کانام ہلال بن الحارث تھا۔ یہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام اور خادم خاص ہیں۔ وفات نبوی کے بعد یہ مدینہ سے