Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
700 - 872
قبول کیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ہی طاقتور اور بہادر تھے۔ ان کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسد اﷲ واسد الرسول (اﷲ ورسول کا شیر) کے معزز و ممتاز لقب سے سرفراز فرمایا۔ یہ   ۳ھ؁ میں جنگ ِ اُحد کے اندر شہید ہو کر ''سید الشہداء'' کے لقب سے مشہورہوئے اورمدینہ منورہ سے تین میل دور خاص جنگ ِ اُحد کے میدان میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزارِ پر انوار زیار ت گاہ عالم اسلام ہے۔ 

    حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے اور ان کی اولاد کے بارے میں بہت سی بشارتیں دیں اور اچھی اچھی دعائیں بھی فرمائی ہیں۔

    ۳۲ھ؁ یا  ۳۳ھ؁ میں ستاسی یا اٹھاسی برس کی عمر پاکر وفات پائی اور جنۃ البقیع میں مدفون ہوئے۔ (1)(زرقانی جلد۳ ص۲۷۰ تا۲۸۵ و مدارج جلد ۲ص۲۸۸)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھیاں
    آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی پھوپھیوں کی تعداد چھ ہے جن کے نام یہ ہیں:

(۱)عاتکہ(۲) امیمہ(۳) ام حکیم(۴) برہ(۵)صفیہ (۶)اروی۔

ان میں سے تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسلام قبول کیا۔ یہ زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ہیں۔ یہ بہت ہی بہادر اورحوصلہ مند خاتون تھیں۔ غزوہ خندق میں انہوں نے ایک مسلح اور حملہ آور یہودی کو تنہا ایک چوب سے مار کر قتل کر دیاتھا۔جس کا تذکرہ غزوہ خندق میں گزرچکا اور یہ بھی
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،الفصل الرابع فی اعمامہ...الخ،ج۴،ص۴۶۴،۴۶۵

وباب ذکر بعض مناقب العباس،ج۴،ص۴۸۵،۴۸۶ملتقطاً

ومدارج النبوت ، قسم پنجم ،باب سوم ،ج۲،ص۴۹۰، ۴۹۳ملخصاً
Flag Counter