| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی حضرت عبداﷲ بن جعفر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہوئی۔
(1)(مدارج النبوۃ جلد ۲ ص۴۶۰)
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال شریف کا حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قلب مبارک پر بہت ہی جانکاہ صدمہ گزرا۔ چنانچہ وصال اقدس کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کبھی ہنستی ہوئی نہیں دیکھی گئیں۔ یہاں تک کہ وصال نبوی کے چھ ماہ بعد ۳ رمضان ۱۱ ھ منگل کی رات میں آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ حضرت علی یاحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور سب سے زیادہ صحیح اورمختار قول یہی ہے کہ جنۃ البقیع میں مدفون ہوئیں۔(2)(مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۴۶۱)چچاؤں کی تعداد
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچاؤں کی تعداد میں مؤرخین کااختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک ان کی تعداد نو، بعض نے کہاکہ دس اور بعض کا قول ہے کہ گیارہ مگر صاحب مواہب لدنیہ نے ''ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذوی القربیٰ'' سے نقل کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ عبدالمطلب کے بارہ بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں:
(۱)حارث(۲)ابوطالب(۳)زبیر(۴) حمزہ(۵)عباس(۶)ابولہب
(۷) غیداق(۸) مقوم(۹) ضرار(۱۰) قثم(۱۱) عبدالکعبہ(۱۲) جحل۔
ان میں سے صرف حضرت حمزہ وحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اسلام1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم پنجم ،باب اول ، ج ۲ ، ص ۴۶۰ والمواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب فی ذکر اولادہ الکرام ، ج۴،ص۳۴۰،۳۴۱ 2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب اول ، ج ۲ ، ص۴۶۱