| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
روایت ہے کہ جنگ ِ اُحد میں بھی جب مسلمانوں کا لشکر بکھر چکا تھا یہ اکیلی کفار پر نیزہ چلاتی رہیں۔ یہاں تک کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کی غیرمعمولی شجاعت پر انتہائی تعجب ہوا اور آپ نے ان کے فرزند حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب فرما کر ارشاد فرمایا کہ ذرااس عورت کی بہادری اور جاں نثاری تو دیکھو۔ ۲۰ھ میں تہتر برس کی عمر پاکر مدینہ منورہ میں وفات پاکرجنۃ البقیع میں مدفون ہوئیں۔(1)
(زرقانی جلد ۳ ص۲۸۷تاص ۲۸۸)
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علاوہ اروی و عاتکہ و امیمہ کے اسلام میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ بعضوں نے ان تینوں کو مسلمان تحریر کیا ہے اور بعضوں کے نزدیک ان کا اسلام ثابت نہیں۔(2)واﷲ تعالیٰ اعلم۔(زرقانی جلد۳ ص ۲۸۷)خُدّامِ خاص
یوں تو تمام ہی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضور شمع نبوت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پروانے تھے اور انتہائی جاں نثاری کے ساتھ آپ کی خدمت گزاری کے لیے سبھی تن من دھن سے حاضر رہتے تھے مگر پھر بھی چند ایسے خوش نصیب ہیں جن کا شمار حضور تاجدارِ رسالت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خصوصی خدام میں ہے۔ ان خوش بختوں کی مقدس فہرست میں مندرجِ ذیل صحابہ کرام خاص طور پر قابل ذکر ہیں: (۱)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ !یہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشہور و ممتاز خادم ہیں۔ انہوں نے دس برس مسلسل ہر سفرو حضر میں آپ کی
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب ذکر بعض مناقب العباس،ج۴،ص۴۸۸،۴۹۰ 2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب فی ذکر بعض مناقب العباس،ج۴،ص۴۹۰۔۴۹۲ملتقطاً