علامہ ابن الجوزی نے یہ تحریر فرمایا کہ اعلان نبوت سے پانچ سال قبل ان کی پیدائش ہوئی۔(1)واﷲ تعالیٰ اعلم۔(زرقانی جلد ۳ ص۲۰۲ تا ۲۰۳)
اﷲ اکبر! ان کے فضائل و مناقب کاکیا کہنا؟ ان کے مراتب و درجات کے حالات سے کتب احادیث کے صفحات مالامال ہیں۔ جن کاتذکرہ ہم نے اپنی کتاب ''حقانی تقریریں'' میں تحریر کر دیا ہے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ سیدۃ نساء العالمین(تمام جہان کی عورتوں کی سردار) اور سیدۃ نساء اہل الجنۃ (اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار) ہیں۔ ان کے حق میں ارشاد نبوی ہے کہ فاطمہ میری بیٹی میرے بدن کی ایک بوٹی ہے جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔(2)
(مشکوٰۃ ص۵۶۸ مناقب اہل بیت وزرقانی جلد۳ص۲۰۴)
۲ ھمیں حضرت علی شیر خدارضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا نکاح ہوا اور ان کے شکم مبارک سے تین صاحبزادگان حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور تین صاحبزادیوں زینب و ام کلثوم و رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی ولادت ہوئی۔ حضرت محسن و رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماتو بچپن ہی میں وفات پاگئے۔ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا۔ جن کے شکم مبارک سے آپ کے ایک فرزند حضرت زید اور ایک صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی پیدائش ہوئی اور