Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
697 - 872
نے چونکہ بارگاہِ نبوت میں کوئی گستاخی اور بے ادبی نہیں کی تھی۔ اس لیے وہ قہرالٰہی میں مبتلا نہیں ہوابلکہ فتح مکہ کے دن اس نے اور اس کے ایک دوسرے بھائی ''معتب'' دونوں نے اسلام قبول کرلیا اور دستِ اقدس پر بیعت کرکے شرف صحابیت سے سرفراز ہوگئے۔ اور ''عتیبہ'' نے اپنی خباثت سے چونکہ بارگاہِ اقدس میں گستاخی و بے ادبی کی تھی اس لیے وہ قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو کر کفرکی حالت میں ایک خونخوار شیر کے حملہ کا شکار بن گیا۔(والعیا ذ باﷲ تعالیٰ منہ)

    حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد ربیع الاول   ۳ ھ؁ میں حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بی بی ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نکاح کر دیا مگر ان کے شکم مبارک سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ شعبان   ۹ ھ؁ میں حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وفات پائی اورحضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور یہ جنۃ البقیع میں مدفون ہوئیں۔(1)

                     (زرقانی جلد۳ ص۲۰۰)
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
    یہ شہنشاہِ کونین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی مگر سب سے زیادہ پیاری اورلاڈلی شہزادی ہیں۔ ان کا نام ''فاطمہ'' اورلقب ''زہرا'' اور ''بتول'' ہے۔ ان کی پیدائش کے سال میں علماء مؤرخین کااختلاف ہے۔ ابو عمر کا قول ہے کہ اعلان نبوت کے پہلے سال جب کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف اکتالیس برس کی تھی یہ پیدا ہوئیں اور بعض نے لکھا ہے کہ اعلان نبوت سے ایک سال قبل ان کی ولادت ہوئی اور
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواہب ،باب فی اولاد ہ الکرام ، ج۴، ص ۳۲۷
Flag Counter