Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
693 - 872
ہیں کہ میری جانب ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔ اس کے بعد ابوالعاص محرم   ۷ ھ؁ میں مسلمان ہو کر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے چلے آئے اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ رہنے لگے۔(1) (زرقانی جلد ۳ ص ۱۹۵ تا ۱۹۶)

    ۸ ھ؁ میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات ہوگئی اور حضرت ام ایمن و حضرت سودہ بنت زمعہ و حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن نے ان کوغسل دیا اورحضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے کفن کے لیے اپنا تہبند شریف عطا فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے ان کو قبر میں اتارا۔

    حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اولاد میں ایک لڑکا جس کانام ''علی'' اور ایک لڑکی حضرت ''امامہ'' تھیں۔ ''علی'' کے بارے میں ایک روایت ہے کہ اپنی والدہ ماجدہ کی حیات ہی میں بلوغ کے قریب پہنچ کر وفات پا گئے لیکن ابن عساکر کا بیان ہے کہ نسب ناموں کے بیان کرنے والے بعض علماء نے یہ ذکر کیاہے کہ یہ جنگ یرموک میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔(2)(زرقانی جلد ۳ ص ۱۹۷)

    حضرت امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بڑی محبت تھی۔ آپ ان کو اپنے دوش مبارک پر بٹھا کر مسجد نبوی میں تشریف لے جاتے تھے۔

    روایت ہے کہ ایک مرتبہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک حلہ بھیجا جس کے ساتھ سونے کی ایک انگوٹھی بھی تھی
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب فی ذکر اولاد الکرام،ج۴،ص۳۱۸۔۳۱۹

ومدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب اول ، ج ۲ ، ص ۴۵۵۔۴۵۶

2۔۔۔۔۔۔ المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب فی ذکر اولاد ہ الکرام،ج۴،ص۳۱۸،۳۲۱

ومدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب اول ،ج ۲،ص۴۵۷
Flag Counter