سے چھڑانے کے لیے انہوں نے مدینہ میں اپنا وہ ہار بھیجا جو ان کی ماں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کو جہیز میں دیاتھا۔ یہ ہار حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اشارہ پاکر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضرت ز ینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس واپس بھیج دیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابوالعاص سے یہ وعدہ لے کر ان کو رہا کر دیا کہ وہ مکہ پہنچ کر حضرت ز ینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مدینہ منورہ بھیج دیں گے۔ چنانچہ ابوالعاص نے اپنے وعدہ کے مطابق حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو اپنے بھائی کنانہ کی حفاظت میں '' بطن یا جج'' تک بھیج دیا۔ ادھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک انصاری کے ساتھ پہلے ہی مقام '' بطن یا جج'' میں بھیج دیا تھا۔ چنانچہ یہ دونوں حضرات '' بطن یا جج'' سے اپنی حفاظت میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مدینہ منورہ لائے۔
منقول ہے کہ جب حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئیں تو کفار قریش نے ان کاراستہ روکا یہاں تک کہ ایک بدنصیب ظالم ''ہباربن الاسود''نے ان کو نیزہ سے ڈرا کر اونٹ سے گرا دیا جس کے صدمہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا۔ مگر ان کے دیور کنانہ نے اپنے ترکش سے تیروں کو باہر نکال کر یہ دھمکی دی کہ جو شخص بھی حضرت زینب کے اونٹ کا پیچھا کریگا۔ وہ میرے ان تیروں سے بچ کر نہ جائے گا۔ یہ سن کر کفار قریش سہم گئے۔ پھر سردار مکہ ابو سفیان نے درمیان میں پڑ کر حضرت ز ینب رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے لیے مدینہ منورہ کی روانگی کے لیے راستہ صاف کرا دیا۔
حضرت ز ینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ہجرت کرنے میں یہ دردناک مصیبت پیش آئی اسی لیے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے فضائل میں یہ ارشاد فرمایا کہ