Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
694 - 872
جس کا نگینہ حبشی تھا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ انگوٹھی حضرت امامہ کو عطا فرمائی۔    

    اسی طرح ایک مرتبہ ایک بہت ہی خوبصورت سونے کا ہار کسی نے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو نذر کیا جس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن حیران رہ گئیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی مقدس بیویوں سے فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو دوں گا جو میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ تمام ازواجِ مطہرات نے یہ خیال کرلیا کہ یقینا یہ ہار حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عطا فرمائیں گے مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو قریب بلایا اور اپنی پیاری نواسی کے گلے میں اپنے دستِ مبارک سے یہ ہار ڈال دیا۔(1)(زرقانی جلد ۳ ص۱۹۷)
حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
    یہ اعلان نبوت سے سات برس پہلے جب کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف کا تینتیسواں سال تھاپیداہوئیں اور ابتداء اسلام ہی میں مشرف بہ اسلام ہوگئیں۔ پہلے ان کا نکاح ابولہب کے بیٹے ''عتبہ'' سے ہوا تھا لیکن ابھی ان کی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ ''سورہ تبت یدا'' نازل ہوگئی۔ ابو لہب قرآن میں اپنی اس دائمی رسوائی کا بیان سن کر غصہ میں آگ بگولا ہوگیا اور اپنے بیٹے عتبہ کو مجبور کردیا کہ وہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق دے دے۔ چنانچہ عتبہ نے طلاق دے دی۔

    اس کے بعد حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کردیا۔ نکاح کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ساتھ لے کر مکہ سے حبشہ کی طرف
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، باب فی ذکر اولاد ہ الکرام ، ج ۴، ص ۳۲۱
Flag Counter