Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
689 - 872
ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک غلام عطا فرمایا۔ اس کے بعد فوراً ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ''یااباابراہیم'' (اے ابراہیم کے باپ) کہہ کر پکارا، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بے حد خوش ہوئے اور ان کے عقیقہ میں دو مینڈھے آپ نے ذبح فرمائے اور ان کے سر کے بال کے وزن کے برابر چاندی خیرات فرمائی اور ان کے بالوں کو دفن کرادیا اور ''ابراہیم'' نام رکھا، پھر ان کو دودھ پلانے کے لیے حضرت ''ام سیف'' رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمایا۔ ان کے شوہر حضرت ابو سیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوہاری کا پیشہ کرتے تھے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت زیادہ محبت تھی اورکبھی کبھی آپ ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوسیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان پر گئے تو یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم جان کنی کے عالم میں تھے۔ یہ منظر دیکھ کر رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اس وقت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یاسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے!یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے۔ اس کے بعد پھر دوبارہ جب چشمان مبارک سے آنسو بہے تو آپ کی زبان مبارک پریہ کلمات جاری ہوگئے کہ
اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ
آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلاشبہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں۔
Flag Counter